جنگ بندی کے بعد غزہ کی صورت حال:
(غزہ پٹی کے رہنے والے ڈاکٹر فایز ابو شمالہ جو اسرائیلی جیلوں میں دس سال گزارنے کے بعد رہا ہوئے۔ فلسطینی قومی کونسل کے رکن، خان یونس کے سابق میئر، یونیورسٹی کے پروفیسر اور ایک ممتاز فلسطینی مصنف اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، انہوں نے اس مضمون میں غزہ کی اندرونی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ، ان کا یہ مضمون غزہ سے شائع ہونے والا ایک عربی اخبار " فلسطین" میں شائع ہؤا ہے ۔ )
اسرائیل حماس جنگ بندی کے بعد غزہ پٹی میں متعدد اندرونی اور بیرونی شر پسند عناصر نے ( جو اکثر بیرونی فنڈنگ سے کام لیتے ہیں، مشکوک میڈیا کوریج حاصل کرتے ہیں، اور جنہیں اسرائیلی خفیہ اداروں کی حمایت حاصل ہے ) فلسطینی حقیقت کو مسخ کرنے اور اندرونی فساد، قبائلی اور خاندانی کشمکش پیدا کرنے کی کوشش کی ، تاکہ غزہ کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جا سکے اور عوام کو داخلی تنازعات میں الجھایا جا سکے۔ یہ سب قابض اسرائیل کی خفیہ پالیسی ہے، جو غزہ کے حقیقی حالات کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان میں سب سے پیش پیش وہ عناصر تھے جو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے، اسرائیلی ایجنٹ اور پیسے لیکر کام کرنے والے تھے، جنہوں نے سمجھا کہ غزہ کی سر زمین پر فلسطینی مزاحمت ختم ہو گئی ہے، اور اب اسرائیلی فوج کی بالادستی ہمیشہ کے لئے قائم ہو چکی ہے ۔
ان خائن ایجنٹوں نے سمجھا کہ وقت آ گیا ہے کہ مزاحمت کاروں کو کچل دیا جائے اور فلسطینی قوم کی قوتیں اور وسائل تباہ کر دیے جائیں۔ لہٰذا وہ بغاوت کے لئے اُٹھے اور غزہ میں فساد برپا کیا، ہنگامہ آرائی کی اور لوگوں پر ظلم ڈھایا۔
وہ مجرمانہ اور دہشت گرد گروہوں میں تبدیل ہو گئے ، جنہوں نے صرف انسانی امداد کی گاڑیوں پر حملہ کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ہمارے مظلوم عوام کے کمزور افراد اور ان کی نجی املاک پر بھی حملے کرنے لگے۔
اور وہ بے وقوف لوگ بھول گئے کہ فلسطینی قوم فطری طور پر خائنوں اور غداری کرنے والوں کو اپنے درمیان سے خارج کر دیتی ہے۔
فلسطینی عوام اپنے دشمن کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو ذلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ہر اس شخص سے محبت کرتی ہے جس نے وطن پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف ہتھیار اٹھایا ہو ۔
ہماری فلسطینی قوم ، جس نے شہید، زخمی اور لاپتہ افراد ملا کر ایک چوتھائی ملین (250000) لوگوں کی قربانیاں دی ہیں ، انہیں معلوم ہے کہ کون اپنے مال، اپنی جان، اپنے بچے، اپنے پوتے اور پوتیاں اور اپنی جائیدادیں وطن کے لیے پیش کر گیا اور کون ہے جو اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے چھپا رہا اور موقع کا انتظار کر رہا تھا کہ وطن کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہتھیا لے۔
فلسطین مزاحمت کی عاشق ہے، اور وہ اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ اس کی پشت پر کوئی ذلیل، بزدل یا خائن سوار ہو۔
فلسطین ایک ایسی عربی گھوڑی ہے جو صرف بہادروں کو اپنا سوار بناتی ہے ، جو آج بھی اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر صہیونی درندے اور ظالموں کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں۔
مترجم: محمد اکمل علیگ
Comments
Post a Comment