مزاحمت کاروں نے نسل کش جنگ کا مقابلہ کیسے کیا ؟
غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والی نسل کشی کی اس جنگ میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے جدید تاریخ کی سب سے خطرناک لڑائیوں میں سے ایک لڑی۔ اس دوران قابض اسرائیلی فوج نے اپنے تمام تر ہتھیار اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے فلسطینیوں کو جھکانے کی کوشش کی، مگر مزاحمت کاروں نے میدان جنگ میں ایسی بے مثال حکمت عملی اور عوام نے ایسی استقامت کا مظاہرہ کیا کہ تباہی کی یہ جنگ داستان عزیمت اور صبر و استقامت کی مثال بن گئی ۔
ابتدا ہی سے مزاحمت کاروں کو یہ احساس تھا کہ یہ جنگ طویل ہوگی، اس لیے اس نے لچکدار جنگی حکمت عملی اور میدان میں غیرمرکزی نظام اختیار کیا۔ جس کی وجہ سے مجاہدین کو چھوٹی چھوٹی خودمختار یونٹوں میں تقسیم کیا گیا، جو ایک دوسرے سے سرنگوں کے جال اور متبادل رابطہ نظام کے ذریعے جڑی ہوئی تھیں۔ اس حکمت عملی نے قابض فوج کو تعداد اور اسلحے کی برتری کے باوجود میدان کو کنٹرول کرنے سے محروم کر دیا۔
اسی کے ساتھ مزاحمت کاروں نے “درجہ وار دفاعی نظام” (defense layers system) تیار کیا، جو تین دائروں پر مشتمل تھا ، نگرانی، تصادم، اور محاصرہ۔ اس نظام کی بدولت اندر گھسنے والی دشمن افواج منظم اور مستحکم گھاتوں کا شکار ہو گئیں۔
جس طرح اس نے ہتھیاروں کی جنگ لڑی ، اسی طرح شعور و آگہی کے ساتھ روحانی و معنوی پہلو سے بھی جنگ اسی شدت سے لڑی ، اسی طرح بیانیے کی لڑائی میں بھی کامیاب رہے اور یہ ثابت کر دکھایا کہ غزہ صرف ایک مظلوم خطہ نہیں، بلکہ ایک باعزم اور باوقار موقف رکھنے والا خطہ ہے۔
ذرائع ابلاغ کے میدان میں ایک متحد اور واضح بیانیے کے ذریعے قابض اسرائیل کے جرائم کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا، اور فلسطینی مسئلے کے حق میں عالمی ہمدردی اور حمایت پر مبنی رائے عامہ پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔
محاصرے کے دوران مزاحمت کاروں نے جنگی وسائل کے انتظام میں شاندار مہارت کا مظاہرہ کیا ، چھوٹے ورکشاپوں کو گولہ بارود کی فیکٹریوں میں بدل دیا، دستیاب ہر چیز کو دوبارہ استعمال میں لایا، اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ بیرونی حمایت کے بغیر بھی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سیاسی سطح پر مزاحمت کاروں نے میدان جنگ اور مذاکرات کے درمیان نہایت نپاتلا توازن قائم رکھا۔ اس نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کو انخلا اور قیدیوں کے تبادلے سے الگ رکھا، تاکہ اپنی طاقت کے تمام پہلوؤں کو محفوظ رکھتے ہوئے کسی قسم کی رعایت یا کمزوری کا مظاہرہ نہ کرے۔
یوں مزاحمت کاروں نے ثابت کر دیا کہ استقامت کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ارادے، نظم و ضبط، اور ایمان پر قائم ایک مکمل نظام ہے۔ اور جنگ کی ساری سختیوں کے باوجود غزہ میں ایک نیا شعور اور بیداری نے جنم لیا ہے ۔
اپنی سر زمین پر باقی رہنا ہی مزاحمت کی سب سے بڑی علامت ہے اور دشمن جو عسکری طور پر کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا وہ سیاست کے ذریعے بھی کبھی کامیاب نہیں ہوگا، چاہے وقت کتنا ہی طویل ہو جائے ۔
ایاد القرا (فلسطینی صحافی، مصنف اور سیاسی تجزیہ نگار)
حوالہ: غزہ سے شائع ہونے والا روزنامہ " فلسطین"
مترجم: محمد اکمل علیگ
Comments
Post a Comment