Posts

Showing posts from October, 2025

جنگ بندی کے بعد غزہ کی صورت حال:

 (غزہ پٹی کے رہنے والے ڈاکٹر فایز ابو شمالہ جو اسرائیلی جیلوں میں دس سال گزارنے کے بعد رہا ہوئے۔ فلسطینی قومی کونسل کے رکن، خان یونس کے سابق میئر، یونیورسٹی کے پروفیسر اور ایک ممتاز فلسطینی مصنف اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں ، انہوں نے اس مضمون میں غزہ کی اندرونی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ، ان کا یہ مضمون غزہ سے شائع ہونے والا ایک عربی اخبار " فلسطین" میں شائع ہؤا ہے ۔ ) اسرائیل حماس جنگ بندی کے بعد غزہ پٹی میں متعدد اندرونی اور بیرونی شر پسند عناصر نے ( جو اکثر بیرونی فنڈنگ سے کام لیتے ہیں، مشکوک میڈیا کوریج حاصل کرتے ہیں، اور جنہیں اسرائیلی خفیہ اداروں کی حمایت حاصل ہے ) فلسطینی حقیقت کو مسخ کرنے اور اندرونی فساد، قبائلی اور خاندانی کشمکش پیدا کرنے کی کوشش کی ، تاکہ غزہ کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جا سکے اور عوام کو داخلی تنازعات میں الجھایا جا سکے۔ یہ سب قابض اسرائیل کی خفیہ پالیسی ہے، جو غزہ کے حقیقی حالات کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان میں سب سے پیش پیش وہ عناصر تھے جو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے، اسرائیلی ایجنٹ اور پیسے لیکر کام کرنے والے تھے، جنہوں نے سمجھ...

مزاحمت کاروں نے نسل کش جنگ کا مقابلہ کیسے کیا ؟

  غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والی نسل کشی کی اس جنگ میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے جدید تاریخ کی سب سے خطرناک لڑائیوں میں سے ایک لڑی۔ اس دوران قابض اسرائیلی فوج نے اپنے تمام تر ہتھیار اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے فلسطینیوں کو جھکانے کی کوشش کی، مگر مزاحمت کاروں نے میدان جنگ میں ایسی بے مثال حکمت عملی اور عوام نے ایسی استقامت کا  مظاہرہ کیا کہ تباہی کی یہ جنگ  داستان عزیمت اور صبر و استقامت کی مثال بن گئی ۔ ابتدا ہی سے مزاحمت کاروں کو یہ احساس تھا کہ یہ جنگ طویل ہوگی، اس لیے اس نے لچکدار جنگی حکمت عملی اور میدان میں غیرمرکزی نظام اختیار کیا۔ جس کی وجہ سے مجاہدین کو چھوٹی چھوٹی خودمختار یونٹوں میں تقسیم کیا گیا، جو ایک دوسرے سے سرنگوں کے جال اور متبادل رابطہ نظام کے ذریعے جڑی ہوئی تھیں۔ اس حکمت عملی نے قابض فوج کو تعداد اور اسلحے کی برتری کے باوجود میدان کو کنٹرول کرنے سے محروم کر دیا۔ اسی کے ساتھ مزاحمت کاروں نے “درجہ وار دفاعی نظام” (defense layers system) تیار کیا، جو تین دائروں پر مشتمل تھا ،  نگرانی، تصادم، اور محاصرہ۔ اس نظام کی بدولت اندر گھسنے والی دشمن اف...

شہید قدس: یحیی سنوار

 یحیی ابراہیم حسن سنوار 19 اکتوبر 1962 کو جنوبی غزہ پٹی کے شہر خان یونس کے ایک مہاجر کیمپ میں پیدا ہوئے ، 1948 میں عسقلان پر اسرائیلی قبضے کے بعد ان کے خاندان نے ہزاروں فلسطینیوں کے ساتھ ہجرت کی تھی اور  خان یونس کے ایک مہاجر کیمپ میں رہنے لگے تھے ۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم خان یونس میں ہی حاصل کی ،  اس کے بعد اسلامی یونیورسٹی غزہ میں داخلہ لیا اور وہاں سے عربک لٹریچر میں بی اے کیا ۔ آپ طالب علمی کے زمانے ہی سے کافی سرگرم تھے اور اسی زمانے میں  فلسطین میں اخوان المسلمین کی طلبہ ونگ اسلامک بلاک کے ایکٹو ممبر شمار ہونے لگے تھے ۔ اسلامی یونیورسٹی غزہ کی طلبہ یونین کے کئی سارے عہدے پر فائز ہوئے ، اسپورٹ کلب کے جنرل سیکرٹری بنے،  پھر یونین کے نائب صدر اور پھر صدر بنے ۔  طالب علمی کے زمانے میں ایکٹو رہنے اور مختلف عہدوں پر فائز رہنے کی وجہ سے ان کے اندر قائدانہ صلاحیت اور مہارت پیدا ہو گئی تھی ، اسی وجہ سے حماس کی تاسیس کے بعد ہمیشہ حماس کے کسی نہ کسی عہدے پر فائز رہے اور کامیابی کے ساتھ اپنی ذمے داری کو ادا کیا ۔ انہوں نے 1986 میں حماس کے بانی شیخ احمد یاسین رحمۃ...